مسئلہ؛- زید کہتا ہے کافر کا جوٹھا پاک ہے بکر کہتا ہے کافر کا جوٹھا ناپاک ہے دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کا قول درست ہے
فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ۲۷ میں ہے :
" سؤر الآدمی طاہر و یدخل فی ھذا الجنب والحائض والنفساء والکافر "اھ
آدمی کا جھوٹا پاک ہے ، اور اسی حکم میں جنبی، حائضہ اور نفاس والی عورت ، اور کافر بھی داخل ہیں ۔ (یعنی ان سب کا جھوٹا بھی پاک ہے )
اور بہار شریعت حصہ دوم صفحہ ۳۴۱ میں ہے :
آدمی چاہے جنب ہو یا حیض و نفاس والی عورت اسکا جھوٹا پاک ہے، کافر کا جھوٹا بھی پاک ہے، مگر اس سے بچنا چاہیے جیسے تھوک، رینٹھ، کھنکار کہ پاک ہیں مگر ان سے آدمی گھن کرتا ہے اس سے بہت بد تر کافر کے جھوٹے کو سمجھنا چاہئے-
والله تعالیٰ اعلم
۲۵ محرم الحرام ۱۴۴۴ ھجری
۲۴ اگست ۲۰۲۲ عیسوی چہار شنبہ
Tags:
پاکی کا بیان