(دوران وضو علمی گفتگو کرنا کیسا ہے؟)

مسئلہ :- (دوران وضو علمی گفتگو کرنا کیسا ہے؟)
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بلا کراہت جائز ہے  کیونکہ دوران وضو دنیاوی گفتگو کرنا مکروہ( تنزیہی) ہے
نورالایضاح فصل  فی مکروہات الوضوء صفحہ ۲٤ میں ہے
*" ( المکروہ ) وتکلم بکلام الناس " اھ*
یعنی لوگوں کے کلام کی طرح ( دنیاوی) بات چیت کرنا مکروہ ہے  ،
اور در مختار مع شامی جلد اول صفحہ ۲۵۰ میں ہے:
"(و) عدم (التکلم بکلام الناس ) الا لحاجۃ تفوتہ " اھ
اور حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں
" بے ضرورت دنیا کی بات کرنا -
(بہار شریعت حصہ دوم صفحہ  ۳۰۱ وضو میں مکروہات)
مذکورہ بالا جزئیات سے واضح ہے کہ درمیان وضو بلا ضرورت کلام کرنا مکروہ (تنزیہی) ہے  لہذا علمی گفتگو کرنا بلا کراہت جائز ہے  کیونکہ  کراہت دنیاوی گفتگو کرنے پر ہے علمی گفتگو پر نہیں،
واللہ تعالیٰ اعلم
۱۲ محرم الحرام ۱۴۴۴ ھجری
۱۱ اگست ۲۰۲۲ عیسوی پنجشنبہ

Previous Post Next Post