(خطیب دونوں خطبہ کے درمیان کیا پڑھے؟)

مسئلہ :- خطیب کو دونوں خطبہ کے درمیان کچھ پڑھنا چاہیے  یا خاموش رہنا چاہیے ؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
خطیب کو اختیار ہے 
 یعنی خطیب دونوں خطبوں کے درمیان ذکر و تسبیح یا درود شریف وغیرہ پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے اور، اگر کچھ نہ پڑھے تو بھی کوئی حرج نہیں,مگر مقتدیوں کے لئے جائز نہیں ۔
 جیسا کہ فتاوی امجدیہ میں ہے: 
دونوں خطبوں کے درمیان خطیب چاہے تو کچھ پڑھ سکتا ہے یا دعا کر سکتا ہے مقتدیوں کے لئے جائز نہیں ۔
( جلد اول صفحہ ٢٩٩/ باب الجمعہ )
 حضور اعلی حضرت  امام احمد رضا خان  محدث بریلوی علیہ الرحمہ، کا بھی یہی معمول تھا کہ اکثر سکوت فرماتے اور کبھی اخلاص یا درود شریف پڑھ لیتے تھے 
( فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم صفحہ ٧٦٥) 
والله تعالیٰ اعلم
۱۵محرم الحرام ۱۴۴۴ ھجری
۱۴ اگست ۲۰۲۲ عیسوی یکشنبہ



Previous Post Next Post