مسئلہ :- جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا عورتوں کے لیے جائز مردوں کے لیے مکروہ تحریمی کیونکہ ممانعت مردوں کے لیے آئی ہے نا کہ عورتوں کے لیے،
جیسا کہ ہدایہ اولین کتاب الصلاة باب مایفسد الصلاة و ما یکرہ فیھا صفحہ ۲۷۸ میں حدیث شریف منقول ہے
" عن ابی رافع عن ام سلمہ ان النبی ﷺ
انه عليه السلام نهى ان يصلى الرجل وهو معقوص " اھ
اور اس حدیث کو علامہ ابن عابدین علیہ الرحمہ نے اپنے فتاویٰ شامی میں بھی نقل فرمایا ہے "
اور محقق جلیل حضور اعلحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ " جوڑا باندھنے کی کراہت مرد کے لئے ضرور ہے حدیث میں صاف *" نھی الرجل "* ہے عورت کے بال عورت ہیں پریشان ہوں گے تو انکشاف کا خوف ہے اور چوٹی کھولنے کا اسے غسل میں بھی حکم نہ ہوا کہ نماز کف شعر گندھی چوٹی میں ہے جب اس میں حرج نہیں جوڑے میں کیا حرج ہے مرد کے لئے ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ سجدے میں وہ بھی زمین پر گریں اور اس کے ساتھ سجدہ کریں
کما فی المرقاة وغیرہ اور عورت ہرگز اس کی مامور نہیں لا جرم امام زین الدین عراقی نے فرمایا "
" هو مختص بالرجال دون النساء " اھ یہ مردوں کے ساتھ مخصوص ہے ناکہ عورتوں کے لیے
( فتاوی رضویہ مترجم جلد ہفتم صفحہ ۲۹۹)
واللہ تعالیٰ اعلم
۲٦ ذی الحجہ ۱۴۴۳ ھجری
۲٦ جولائی ۲۰۲۲ عیسوی سہ شنبہ