(اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے اس طرح کہنا کیسا؟)


مسئلہ :- اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے اس طرح کہنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
  صورت مستفسرہ میں قائل کو کافر کہا جائے گا یا نہیں اس میں اختلاف ہے ، 
 حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر اسی طرح کے سوال کے جواب میں  تحریر فرماتے ہیں، یہ جملہ کہنا کہ،خدا ہر جگہ موجود ہے، سخت حرام اور اپنے ظاہر معنی کے لحاظ سے کفر ہے ،حدیقۂ ندیہ، میں ایسے قائل کو کافر کہا ہے اگرچہ مذہب متکلمین مختار للفتوی پر کافر نہیں کہا جائے گا مگر احتیاطا توبہ و تجدید ایمان و نکاح کا حکم دیا جائے گا- 
(فتاویٰ شارح بخاری  جلد اول صفحہ ۱۱۳ عقائد متعلقہ ذات و صفات الہٰی)  
نیز اسی میں  صفحہ ۱۱۴  پر شارح بخاری علیہ الرحمہ  تحریر  فرماتے ہیں، یہ کہنا کہ  اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، ذرے ذرے میں ہے،، ضرور کلمۂ کفر ہے۔ حدیقۂ ندیہ میں ہے: لو قال ھکذا بالفارسیۃ: نہ مکانی ز تو خالی نہ تو در ہیچ مکانی فھکذا کفر، کوئی چیز کسی چیز میں ہوتی ہے تو وہ چیز اس کو گھیرے رہتی ہے اور اللہ عزوجل کو کوئی چیز گھیر نہیں سکتی۔ ارشاد ہے:  و کان اللہ بکل شئ محیطا،،  اگرچہ صحیح یہ ہے کہ قائل کافر نہ ہوگا اس لئے کہ مسلمان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اسکا جلوہ ہر جگہ،ہر ذرے میں ہے مگر پھر بھی ایسا جملہ کہنے سے اجتناب لازم ہے جسکا ظاہر معنی کفر ہو،
والله تعالیٰ اعلم
۸ ذی الحجہ ۱۴۴۳ ھجری 
بروز جمعہ مبارک
Previous Post Next Post