فرض کی دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد صرف الر تلک آیت الکتاب وقرآن مبین پڑھا تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ :- اگر کسی نے فرض کی دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد صرف"  الر تلک آیت الکتاب و قرآن مبین" پڑھی رکوع میں چلا گیا پھر سجدے میں یاد آیا کہ صرف الر الخ اتنا ہی پڑھا ہے تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 صورت مسئولہ میں سجدہ سہو کرلے نماز ہوجائے گی 
 کیونکہ ایک رکعت میں کم از کم ایک آیت قرآنیہ ،، ما یجوز بہ الصلاۃ ،، یعنی جس سے نماز جائز ہوجائے جسکی مقدار یہ کہ چھ حرف سے کم نہ ہو پڑھنا فرض ہے کہ اتنی مقدار میں پڑھی تو فرض ادا ہوگیا 
جیساکہ فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ششم صفحہ ۳۴۴ میں ہے " آیت ،، مایجوز بہ الصلاۃ ،، چھ حرف سے کم نہ ہو ،  نیز اسی میں صفحہ ۳۴۷ پر ہے نماز میں ایک آیت پڑھنا فرض ہے ، 
اور حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ، فرماتے ہیں " تین چھوٹی آیت کی مثال فقہاء نے یہ دی ہے ،، ثم نظر ثم عبس و بسر ثم ادبر واستکبر ،، کہ ان آیات کے حروف کل تیس ہیں لہذا اگر تیس حروف کی ایک آیت پڑھ دی واجب ادا ہوگیا اس سے کم ہو تو واجب ادا نہ ہوا سجدۂ سہو واجب ہے 
درمختار میں ہے :  و ضم اقصر سورۃ کالکوثر أو ما قام مقامھا و ھو ثلث آیات قصار نحو ثم نظر ثم عبس و بسر ثم ادبر واستکبر و کذا لو کانت الآیات أو الاتیان تعدل ثلثا قصارا ذکرہ الحلبی " 
ردالمحتار میں ہے کہ" فلو قرأ آیۃ طویلۃ قدر ثلثین حرفا یکون قد اتی بقدر ثلث آیات - ( فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ ۹۷ / ۹۸ باب القرأۃ) 
لہذا معلوم ہوا کہ الر تلک آیت الکتاب و قرآن مبین ،، پڑھنے سے واجب ادا نہیں ہوگا لہذا اخیر میں سجدۂ سہو کرے پس سجدۂ سہو کرنے کی صورت میں نماز ہوگئی اور اگر سجدہ سہو نہ کیا تو اعادہ واجب ہے" 
واللہ تعالیٰ اعلم
۶ ذی الحجہ ۱۴۴۳ ھجری بروز چہار شنبہ
Previous Post Next Post