مسئلہ:- بکری نے بچے کو جنم دیا پھر وہ مر گئی خنزیر کا دودھ پی کر بکری کا بچہ گیارہ ماہ کا ہوگیا تو اس کا گوشت کھانا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جائز ہے خنزیر کا دودھ پینے سے حلال جانور حرام نہیں ہو جائے گا ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی جانور آدمی کا دوددھ پئے گا تو اس کا گوشت کھانا کیسا ہے تو اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جس جانور نے آدمی کا دودھ پیا ہو وہ اس کے باعث حرام نہیں ہوجاتا، اگر چہ پوری پرورش انسان بلکہ خنزیر کے دودھ سے پائی، غایت یہ کہ چند روز بند کر کے چارہ کھلائیں یا حلال جانور کا دودھ پلائیں، اس کے بعد ذبح کریں، خانیہ میں ہے : لوان جد یاغذی بلبن الخنزیر لاباس باکلہ ؎
بھیڑ کا بچہ اگر خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے تو اس کے کھانے میں ممانعت نہیں۔
ہندیہ میں ہے:
*الجدی یربی بلبن الاتان والخنزیر ان اعتلف ایاما فلا باس،*
بھیڑکا بچہ اگر گدھی یا خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے تو اس نے چند روز بعد میں چارہ کھالیا تو کھانے میں حرج نہیں ہے،
*الجدی اذا ربی بلبن الا تان، قال ابن المبارک یکرہ اکلہ قال واخبرنی رجل عن الحسن، قال اذا ربی الجدی بلبن الخنزیر لاباس بہ۔ قال معناہ اذا اعتلف ایاما بعد ذٰلک کالجلالۃ کذا بخط شیخنا عن الخانیۃ ۔*
بھیڑ کا بچہ گدھی کے دودھ سے پرورش پائے تو ابن مبارک نے فرمایا اس کا کھانا مکروہ ہے مجھے یک شخص نے حسن سے خبردی انھوں نے کہا بھیڑ کا بچہ اگر خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے توحرج نہیں، انھوں نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے بعد وہ چارہ کھاتا رہا تووہ جلالہ یعنی گندگی کھانیوالے جانور کی طرح ہے ہمارے شیخ کے سے یوں خانیہ سے منقول ہے۔ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد ۲۰ صفحہ ۲۵۹)
واللہ تعالیٰ اعلم
۵ ذی الحجہ ۱۴۴۳ ھجری بروز سہ شنبہ