مسئلہ :- جان بوجھ کر رکوع کی تسبیح سجود میں اور سجود کی تسبیح رکوع میں پڑھنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جان بوجھ کر اس طرح پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے اس سے بچنا چاہیے مگر سجدۂ سہو واجب نہیں،
جیسا کہ حضور اشرف الفقہاء خلیفۂ حضور مفتی اعظم مفتی مجیب اشرف علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں :
اگر کسی نے رکوع میں سجدہ کی تسبیح ، سبحان ربی الاعلیٰ ،، اور سجدہ میں رکوع کی تسبیح ، سبحان ربی العظیم ، پڑھ دی تو اس پر سجدۂ سہو واجب نہیں اگر اسی وقت یاد آجائے تو رکوع کی تسبیح رکوع میں اور سجدہ کی تسبیح سجدہ میں کہہ لے تاکہ سنت کے مطابق ہوجائے ۔ رکوع کی تسبیح سجدہ میں اور سجدہ کی تسبیح رکوع میں قصداً پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے اس سے بچنا چاہیے مگر سجدۂ سہو واجب نہیں-
( مسائل سجدہ سہو صفحہ ۸۲ )
واللہ تعالیٰ اعلم
۲۳ ذی الحجہ ۱۴۴۳ ھجری
۲۳ جولائی ۲۰۲۲ عیسوی شنبہ
Tags:
نماز کا بیان