تحری کرکے نماز پڑھ رہا تھا سجدہ سہو میں رائے بدل گئی تو کیا حکم ہے یعنی اب کیا کرے؟

مسئلہ:- تحری کرکے نماز پڑھ رہا تھا سجدہ سہو میں رائے بدل گئی تو گھومنے کا حکم ہے یا نہیں؟ جو نماز پڑھ چکا ہے اس، میں خرابی آئے گی یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب 
صورت مسئولہ میں فرض ہے کہ فوراً گھوم جائے اور پہلے جو پڑھ چکا ہے، اس میں خرابی نہ آئے گی۔
جیسا کہ بہار شریعت میں در مختار ردالمحتار سے ہے : 
اگر تحری کرکے نماز پڑھ رہا تھا اور اثنائے نماز میں اگرچہ سجدۂ سہو میں رائے بدل گئی یا غلطی معلوم ہوئی تو فرض ہے کہ فوراً گھوم جائے اور پہلے جو پڑھ چکا ہے، اس میں خرابی نہ آئے گی۔ اسی طرح اگر چاروں رکعتیں چار جہات میں پڑھیں ، جائز ہے اور اگر فوراً نہ پھرا یہاں تک کہ ایک رکن یعنی تین بار سبحان اﷲ کہنے کا وقفہ ہوا، نماز نہ ہوئی۔ 
بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ٤۹٤ نماز کی شرطوں کا بیان 
والله تعالیٰ اعلم
۱۲ صفر المظفر ۱٤٤٦ ھجری
۱۸ اگست ۲۰۲٤ عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post