مسئلہ:- زید نے نماز میں سورہ بقرہ کی شروع کی آیت تلاوت کی الٓمّٓ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ ۚۛ بھول کر لفظ لَا چھوڑ دیا تو ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نماز فاسد ہوگئ کیونکہ لاریب فیہ میں لفظ لا چھوٹ جائے تو معنیٰ ہی بگڑ گئے یعنی قرآن مجید ایسی مقدس کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں، لا چھوٹ جانے کی صورت میں مفہوم ہوگا اِس میں شک کی گنجائش ہے معاذاللہ فلہذا نماز فاسد ،
بہار شریعت میں ہے:
اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے، نماز فاسد ہوگئی،ورنہ نہیں ۔اعرابی غلطیاں اگر ایسی ہو جن سے معنی نہ بگڑتے ہو تو مفسد نماز نہیں ہے-
( حصہ سوم قراءت میں غلطی ہوجانے کا بیان )
اور اسی میں ہے : کسی کلمہ کو چھوڑ گیا اور معنی فاسد نہ ہوئے جیسے { جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا } میں دوسرے سَیِّئَةٌ کو نہ پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوئی اور اگر اس کی وجہ سے معنی فاسد ہوں ، جیسے { فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ } میں لَا نہ پڑھا، تو نماز فاسد ہوگئی۔
(بہار شریعت حصہ سوم قراءت میں غلطی ہو جانے کا بیان)
والله تعالیٰ اعلم۔
۲۲ ربیع الاوّل ۱۴۴۵ ھجری
۸ اکتوبر ۲۰۲۳ عیسوی یکشنبہ
Tags:
نماز کا بیان