سیدنا امام حسین رضی الله عنہ کی ولادتِ باسعادت کب ہوئی؟

مسئلہ :-شہید اعظم نواسۂ رسول اللہﷺ حضور سیدنا امام حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی ولادت با سعادت کب ہوئی؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
سیدنا امام عالی مقام سیدا لشہداء حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ولادتِ باسعادت ۵ شعبان ۴ھ؁کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ 
 جیسا کہ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ میں ہے ۔ ولدت فاطمۃ  بنت رسول اللہﷺ الحسین بن علی،،،،،،،،، وقال زبیر بن بکار : ولد لخمس لیال خلون من شعبان سنۃاربع من الھجرۃ ۔
(جلد 1 صفحہ 496 باب الحاء والسین ) 
حضور پرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے آپ کا نام حسین اور شبیر رکھا اور آپ کی کنیت ابو عبد اللہ اور لقب سبط رسول اللہ اور رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل ہے اور آپ کے برادرِ معظم کی طرح آپ کو بھی جنتی جوانوں کا سردار اور اپنا فرزند فرمایا۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے القاباتِ مبارکہ
امام عالی مقام سید الشہداء حضر ت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ ہے اور القاب مبارکہ ، ریحانۂ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، سیدشباب اہل الجنۃ ، الرشید ، الطیب ، الزکی ، السید ، المبارک ، ہیں ۔ جب آپ کی ولادت ہوئی تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ کے کان میں اذان کہی جیساکہ روایت ہے :

عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : " أَذَّنَ فِی أُذُنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ حِینَ وُلِدَا ۔عجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر 2515،چشتی)

معجم کبیر طبرانی میں روایت ہے :

عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ , أَنَّہُ سَمَّی ابْنَہُ الأَکْبَرَ حَمْزَۃَ ، وَسَمَّی حُسَیْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّہِ ، فَسَمَّاہُمَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَیْنًا ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بڑے شہزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا نام مبارک حمزہ اور سید نا حسین رضی اللہ عنہ کا نام مبارک ان کے چچا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا ، پھر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کا نام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رکھا ۔

(معجم کبیر طبرانی ، حد یث نمبر2713)

حسن و حسین جنتی نام

حسن اور حسین یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء سے ہیں اور قبل اسلام عرب نے یہ دونوں نام نہ رکھے ۔

علامہ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے الصواعق المحرقۃ ص:115، میں روایت درج کی ہے :

أَخْرَجَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ سُلَیْمَانَ قَالَ : " اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ " اِسْمَانِ مِنْ أَسْمَاءِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ، مَا سَمَّتِ الْعَرَبُ بِہِمَا فِیْ الْجَاہِلِیَّۃِ ۔

(الصواعق المحرقہ، صفحہ 115،چشتی)(تاریخ الخلفاء ،ج1ص149)

نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عقیقہ فرمایا :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ کَبْشًا کَبْشًا ۔

ترجمہ : سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک دنبہ ذبح فرمایا ۔

(سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب فی العقیقۃ ، ص392، حدیث نمبر2843)(سنن نسائی،کتاب العقیقۃ ، حدیث نمبر- 4230،چشتی)(سنن بیہقی، حدیث نمبر 1900)

واللہ تعالیٰ اعلم۔۔
۱ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھجری
۲۰ جولائی ۲۰۲۳ عیسوی پنجشنبہ
Previous Post Next Post