مسئلہ :- بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور جن کا کان وغیرہ چیر دیا جاتا ہے شرعی طورپر ذبح کرکے کھانا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں مذکورہ جانوروں کو کھانا حلال ہے ، اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ " مشرکین اپنے بتوں کے لئے سانڈ چھوڑتے ہیں جسے سائبہ کہتے ہیں جسے کان چیر کر چھوڑتے ہیں اسے بحیرہ کہتے ہیں اور ان جانوروں کو حرام جانتے اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا : مَا جَعَلَ اللّٰه مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَآئبَة وَّلاَ وَصِیْلَة وَّلَا حَامٍ ، وَلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰه الْکَذِبَ ، وَاَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ " اھ یعنی اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چرا ہوا نہ بحار نہ وصیلہ اور نہ حام ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افتراء باندھتے ہیں اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہے " اھ ( پ ٦ سورہ مائدہ ) یعنی یہ باتیں اللہ نے ٹھرائیں نہیں بلکہ جھوٹ باندھتے ہیں تو ان جانوروں کا حرام بنانا کافروں کا طریقہ ہے اور قرآن مجید کے خلاف ہے ۔ اور آیت " ما اھل به لغیر الله " اس جانور کے لئے ہے جسکے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا جائے چھوڑے ہوۓ جانور سے اسے کوئی تعلق نہیں نہ کہ مٹھائی تک پہونچے یہ تعصب وہابیوں کے جاہلانہ خیال ہے کہ،، جاندار یا بے جان ذبیحہ ہو یا غیر،، جس چیز کو غیر خدا کی طرف کرکے پکاریں گے حرام ہو جاۓ گی، ایسا ہو جاۓ تو ان کی عورتیں بھی ان پر حرام ہوں کہ وہ بھی انھیں کی عورتیں کہہ کر پکاری جاتی ہیں اللہ کا نام ان پر نہیں لیا جاتا ایسے بیہودہ خیالوں سے بچنا لازم ہے ، ہاں بت کے چڑھاوے کی مٹھائی وغیرہ مسلمانوں کو نہیں لینا چاہئے کہ کافر اسے صدقہ کے طور پر بانٹتے ہیں وہ لینا ذلت بھی ہے اور معاذ اللہ جو چیز انہوں نے تعظیم بت کے لئے بانٹیں اسکا ان کے موافق مراد استعمال بھی ہے ۔ بخلاف چھوڑے ہوۓ جانور کے کہ اسکا کھانا کافروں کے خلاف مراد اور اسکی ذلت ہے اس میں حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ فتنہ نہ ہو ورنہ فتنہ سے بچنا لازم ہے قال الله تعالیٰ " الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ " اھ یعنی فتنہ قتل سے شدید تر ہے " اھ ( فتاوی رضویہ جلد ۲۰ صفحہ ۲٦۰ : رضا فاؤنڈیشن لاھور ) اور اسی میں دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ " ہر وہ حلال جانور جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیکر ذبح کیا جائے وہ حلال ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ " وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ " اھ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ تمہیں کیا ہوا کہ نہیں کھاتے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام پکارا گیا " اھ ( پ ٦ سورہ مائدہ آیت ۱۲۱ ) اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " مسلم ذبح شاہ المجوسی لبيت نارهم او الكافر لالهتهم توكل لأنه سمى الله تعالى و يكره للمسلم كذا فى التاتار خانية " اھ یعنی مسلمان نے مجوسی کی بکری ذبح کی ان کی آتشکدہ کے لئے ، یا کسی کافر کی بکری ان کے معبودوں کے لئے ذبح کی تو کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کی ہے اور مسلمان کو یہ عمل مکروہ ہے تاتار خانیہ میں یونہی ہے " اھ ( فتاوی عالمگیری جلد پنجم صفحہ ۲۸٦ : کتاب الذبائح
فتاوی رضویہ جلد ۲۰ صفحہ ۲٦۵)
خلاصہ کلام یہ کہ ہر وہ جانور جو اللہ تعالیٰ کا نام لیکر ذبح کیا جائے وہ حلال ہے اس کا کھانا بالکل جائز ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
۲۲ ذی الحجہ ۱۴۴۴ ھجری
۱۱ جولائی ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبہ
Tags:
ذبح کا بیان