چرم قربانی کو فروخت کر کے جنازہ کی چارپائی لانا کیسا ہے؟

مسئلہ :- ایک شخص نے قربانی کی کھال کو بغیر صدقه کی نیت کے بیچ کر جنازہ کی چارپائی لایا تو اب اس کا استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اُس  جنازہ والی چار پائی کا استعمال کرنا جائز ہے 
کیونکہ قربانی کی کھال بغیر صدقہ کی نیت سے بھی فروخت کرکے کوئی ایسا کام کرنا جس سے ثواب حاصل ہو بلا شبہ جائز ہے" 
چرم قربانی کو بغیر صدقہ کی نیت کے صَرف کرنے کے متعلق خلیفۂ اعلیٰ حضرت ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "  باایں معنی کہ اپنے صرف میں لانا بے کسی خاص نیت محمودہ کے ہو  جو اسے حد صدقہ میں داخل کردے اور جب مطلق تقرب کا ارادہ لازم اور تصریح امام زیلعی لانہ قربۃ کالتصدق اس پر جازم تو  اضحیہ کے چمڑے سے کوئی کام رفاہ عام کرنا جس سے ثواب حاصل ہو بلا شبہ جائز ہے "
مصارف چرم قربانی صفحہ 21 محمدی بک ڈپو جامع مسجد دہلی )
والله تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب
۲۴ذی القعدہ شریف۱۴۴۴ھجری بمطابق ۱۵جون۲۰۲۳عیسںوی بروز پنجشنبه ـــــــــــــــــــــــجمعرات
Previous Post Next Post