مسئله:- سات لوگوں نے مل کر ایک بڑے جانور میں حصه لیکر قربانی کی اور جب گوشت تقسیم کرنے کی باری آئی تو ہر ایک نے اندازے سے اپنے اپنے حصے کا گوشت لے لیۓ لیکن اس میں ایک شخص کو تکلیف ہے تو گوشت کو اندازے سے لینا چاہیۓ یا تَول کرلینا چاہیۓ اور ان دونوں صورتوں میں کونسی صورت جائز ہے اور کونسی صورت ناجائز ہے؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورتِ دوم جائز ہے صورتِ اول ناجائز ہے کیونکہ گوشت اندازے سے لینے کی صورت میں ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے
امام شمس الدین محمد تمرتاشی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
ویقسم اللحم وزنا لاجزافا
تنویرالابصار ص٢١١ ، المکتبۃ النبویة
کہ گوشت وزن کرکے تقسیم کیاجائےگا اندازہ سے نہیں
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
*” لان القسمة فیھا معنی المبادلة ولو حلل بعضھم بعضا “*
ردالمحتار جلد نہم صفحہ ٤٦٠
کہ تقسیم میں مبادلت کا معنی موجود ہے چاہے شرکاء نےایک دوسرےکیلئے حلال ہی کیوں نہ کردیاہو
امام کاسانی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
اما عدم جواز القسمة مجازفة فلان فیھا معنی التملیک واللحم من الاموال الربویة ، فلایجوز تملیکہ مجازفة کسائر الاموال الربویة ، واما عدم جواز التحلیل فلان الربوی لایحتمل الحل بالتحلیل “(بدائع الصنائع جلد ششم صفحہ ٢٩٢ ، ٢٩٣)
کہ اندازےسےتقسیم کرنا اسلئے جائز نہیں ہےکہ اس میں تملیک کا معنی ہے اور گوشت اموال ربویہ میں سےہے لہذا تمام اموال ربویہ کی طرح اسکی تملیک بھی اندازےسے جائز نہیں ہوگی ، اور ایک دوسرےکیلئے حلال کردینےکےعدم جوازکی وجہ یہ ہےکہ ربوی چیز حلال کردینےسےحلال نہیں ہوتی،
علامہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
شرکت میں گائے کی قربانی ہوئی تو ضرور ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جائے اندازہ سے تقسیم نہ ہوکیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک اس کو دوسرے کے لیے جائز کر دے گا کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز حق شرع ہے اور ان کو اس کے معاف کرنے کا حق نہیں
بہار شریعت جلد سوم حصه پندرہ صفحه ۳۳۷، ۳۳۸، قربانی کا بیان
واللّٰه سبحانهٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۱۳ذی القعدہ شریف۱۴۴۴ ھجری بمطابق ۳جــــون۲۰۲۳عیسوی بروز شنبه ــــــــــــسنیچر