مسئله:- جب چند لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہوں تو یه کہنا که خدا اس جگه موجود ہے کہنا کیسا ہے؟
بسم اللّٰه الرحمٰنِ الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
جہاں چند لوگ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہوں که خدا وہاں موجود ہے یه نہیں کہنا چاہیۓ جیسا که اسی سوال کے جواب میں فقیه مِلَّت والدّ ِین حضرت العلام و مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی علیه الرحمه تحریر فرماتے ہیں
جب لوگ ایک بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں تو ان کے درمیان خدا موجود ہوتا ہے یه نہیں کہنا چاہیۓ اس لیۓ که اللّٰه جگه اور مکان سے پاک ہے عقائد نسفی میں ہے لا یتمکن فی المکان اس کے تحت شرح عقائد نسفی میں صفحه نمبر ۳۳ پر ہے اذا لم یکن فی مکان لم لم یکن فی جھۃ لا علو ولا سفل ولا غیرھما اور وہ جو پارہ ۲۸ رکوع ۲ میں ہے ما یکون من نجویٰ ثلثۃ الا ھوا رابعھم تو اس آیتِ مبارکه کا مطلب یه ہے که اللّٰه تعالیٰ انہیں مشاہدہ نہیں فرماتا ہے اور ان کے رازوں کو جانتا ہے اس کا مطلبیه نہیں که ان کے درمیان خدا تعالیٰ موجود ہوتا ہے تفسیرِ جلالین میں ہے ھو رابعھم بعلمه اور علامه صاوی نے فرمایا: قوله بعلمه ای وسمعه وبصرہ ومتعلق اہم قدرته وارادته اور تفسیر مدارک میں اس آیتِ مبارکه کے تحت ہے: یعلم ما یتنا جون به ولا یخفٰی علیه ما ھم وقد تعالیٰ عن المکان علوا کبیرا، ۱ھ
فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحه نمبر نمبر۴۷
واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسوله ﷺ اعلم بالصواب
۲۵شوال المکرم شریف۱۴۴۴ھجری بمطابق ۱۶مئـــی۲۰۲۳عیسوی بروز سه شنـــبه ــــــــــــــــــــــــمنگل
Tags:
متفرقات