مسئلہ؛- جب رب قدیر میدانِ حشر کو قائم فرماۓ گا تو وہ کس ملک کے زمین پر قائم فرمائے گا؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اللہ تعالیٰ حشر کا میدان ملک شام میں قائم فرمائے گامسند للامام احمد بن حنبل میں ہے کہ " تحشرون هاهنا و أومأ بیدہ إلی نحو الشام مشاۃ ورکبانا ۔ وحدثنا یزید ، أخبرنا بهز عن أبیه عن جدہ قال : قلت : یا رسول اللّٰه ، أین تأمرني ، قال : ( هاهنا ) ونحا بیدہ نحو الشام قال : ( إنّکم محشورون رجالاً و رکباناً وتجرون علی وجوهکم ) " اھ ( المسند للإمام أحمد بن حنبل جلد ۷ صفحہ ۲۳۵ / ۲۳۷ ، رقم حدیث : ۲۰۰۴۵ / ۲۰۰۵۱ ) اور ملا علی قاری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " يحشر الناس احياء الى الشام " اھ یعنی لوگ زندہ کرکے ملک شام کی طرف جمع کئے جائیں گے " اھ ( مرقات شرح مشکوٰۃ جلد ۱۰ صفحہ ۱۹۰ : باب الحشر ،) اور بہار شریعت میں ہے کہ " یہ میدانِ حشر ملکِ شام کی زمین پر قائم ہوگا ۔ زمین ایسی ہموار ہو گی کہ اِس کنارہ پر رائی کا دانہ گر جائے تو دوسرے کنارے سے دکھائی دے ، اُس دن زمین تانبے کی ہوگی اور آفتاب ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا
بہار شریعت جلد اول صفحہ ۱۳۲ : معاد و حشر کا بیان
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۱شوال المکرم شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۱۲مئـــی۲۰۲۲عیسوی بروز آدینه جمعة المبارک
Tags:
عقائد کا بیان