مسئله:- رشوت کی کتنی قسمیں ہیں؟
بِسمِ اللّٰهِ الْــرَّحْـــمٰنِ اْلْــــرَّحِـــــیمْ
الجـــواب بعـــون المــلک الوھــــــاب
جیسا که علامه قاضی خان اور جندی لکھتے ہیں:
جب قاضی رشوت دی کر منصب قضا کو حاصل کرے تو وہ شخص قاضی نہیں ہوگا اور قاضی رشوت لینے والے دونوں پر رشوت حرام ہوگی
اور رشوت کی چار قسمیں ہیں م:
(١) پہلی قِسم یہی ہے یعنی منصبِ قضا کو حاصل کرنے کے لیۓ رشوت دینا،اس رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں
(٢) اور دوسری شرط یه ہے
کوئی شخص اپنے حق میں فیصله کرانے کے لیۓ قاضی کو رشوت دے یه رشوت جانبین سے حرام ہے خواہ وہ فیصله حق اور انصاف پر مبنی ہو یا نه ہو کیونکه فیصله کرنا قاضی کی ذمہداری اور فرض ہے،{اسی طرح کسی افسر کو اپنا کامکرانے کے لیۓ رشوت دینا یه بھی جانبین سے حرام ہے کیونکه وہ کام کرنا اس افسر کی ڈیوٹی ہے، سعید غفرلهٗ}
(۳)اور تیسری شرط یه ہے: اپنی جان اور مال کو ظلم اور ضرر سے بچانے کے لیۓ رشوت دینا یه لینے والے پر حرام ہے دینے والے پر حرام نہیں ہے، اسی طرح اپنے مال کو حاصل کرنے کے لیۓ رشوت دینا جائز ہے اور لینا حرام ہے،
اور چوتھی شرط یه ہے:
کسی شخص کو اس لیۓ رشوت دی که وہ اس کو بادشاہ یا حاکمتک پہونچا دے تو اس رشوت کا دینا جائز ہے اور لینا حرام ہے، رشوت کی یه چار اقسام قاضی خان کے حوالے سے علامه ابن ہمام، اور علامه بدرالدین عینی،اوغ علامه زین الدین ابن نجیم،اور علامه ابنِ عابدین شامی نے بھی بیان کی ہیں علامه ابو بکر جصاص نے بھی رشوت کی یه چار قسمیں بیان کی ہیں-
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
{شرح مسلم شریف جلد ۵، صفحه نمبر، ۷۱ باب کتاب الاقضیۃ کا بیان}
۱۶شعبان المعظم شریف ۱۴۴۴ھجری
۹مـــارچ ۲۰۲۳عیسوی بروز پنجشنبه ـــــــــــــــــــــــ جمعرات
Tags:
متفرقات