(اِسْتِـــفْتَاء)السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ کیا ایک مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ غیر مسلموں کے مذہبی تیوہار جیسے دیوالی ہولی منکر سنکرات تیوہاروں کے سامان خریدو فروخت کرے؟
المُسْتَـــفْتِیْ: محمّد فیضان رضا جمالی، بھگت واڑی، نوری پلاٹ، اکولہ، مہاراشٹرا، انڈیا)
وَعَلَيْـــــكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ
غیر مسلموں کے تیوہار کے سامان فروخت کرنا مسلمانوں کے لیے ناجائز ہے، مثلاً پٹاخہ اور راکھی وغیرہ کی تجارت جائز نہیں؛ کہ آتش بازی حرام ہے؛ کہ یہ گناہ پر اعانت ہے جو حرام ہے. اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ یعنی اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو.(المائدۃ/رقم الآیة:۶)
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: افیون وغیرہ جس کا کھانا نا جائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہیں ناجائز ہے؛ کہ اس میں گناہ پر اعانت ہے. (بہار شریعت، ح:۱۶)
★ اور یوں ہی راکھی کا استعمال صرف رکشابندھن کے لئے ہوتا ہے جو یہاں کے غیرمسلموں کا مذہبی شعار ہے؛ اس لیے راکھی کی تجارت بھی گناہ پر اعانت ہوئی، لہذا یہ تجارت بھی ناجائز ہے. ایسا ہی فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ ۲۳۸ میں ہے.
لہذا مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوا کہ اسی طرح ہر وہ سامان بیچنا جائز نہیں جو گناہ پر مدد ہو. ہاں! اگر گناہ پر مدد نہیں ہے تو اس کا بیچنا اور خریدنا دونوں جائز ہے، جیسے آج کل دیہات وغیرہ میں کھیتوں سے جانور کو ڈرانے اور بھگانے کے لئے پٹاخے وغیرہ داغتے ہیں، اس طرح کاموں کے لئے پٹاخے اور دیگر اشیاء خریدنا اور بیچنا جائز ہے. واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
معصوم رضا نوری ارشدی، بلرام پور، یوپہ انڈیا
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام
حضرت مولانامفتی ذیشان ضیاء مصباحی صاحب، مئو یوپی، انڈیـــا
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا
حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا
حضرت مولانامفتی کہف الوری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا
سنی رضوی دارلافتــــاء
21دسمبر 2022 بروز بدھ
Tags:
خرید و فروخت کا بیان