کس صورت میں امام کو رکوع طول کرنا افضل ہے؟

مسئلہ:-  امام کو حالتِ رکوع میں کسی مقتدی کے آنے‌کی آہٹ محسوس ہوئی جسے امام پہچانتا نہیں ہے تو امام نے‌یہ سوچ کر رکوع کو تھوڑا سا طول کردیا کہ وہ رکوع میں ‌شامل ہو جاۓ تو امام کا مقتدی کی شمولیت کے لیۓ رکوع کو طول کرنا کیسا ہے؟  
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں امام کو رکوع طول کرنا افضل ہے، کیونکہ  آنے والے کو نہ پہچانتا ہو  تو رکوع طول کرنا نیکی پر اعانت ہے، 
چنانچہ در مختار مع شامی جلد دوم صفحہ ۱۹۸ میں ہے :
وَكُرِهَ تَحْرِيمًاإطَالَةُ رُكُوعٍ أَوْلِيَاءَ قِرَاءَةٍ لِإِدْرَاكِ الْجَائِي: أَيْ إنْ عَرَفَهُ وَإِلَّا فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَلَوْ أَرَادَ التَّقَرُّبَ إلَى اللَّهِ تَعَالَى لَمْ يُكْرَهْ اتِّفَاقًا لَكِنَّهُ نَادِرٌ وَتُسَمَّى مَسْأَلَةَ الرِّيَاءِ، فَيَنْبَغِي التَّحَرُّزُ عَنْهَا، اھ 
اور بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۵۳۰ میں ہے : 
 کسی آنے والے کی وجہ سے رکوع یا قراء ت میں  طول دینا مکروہ تحریمی ہے، جب کہ اسے پہچانتا ہو یعنی اس کی خاطر ملحوظ ہو اور نہ پہنچانتا ہو تو طویل کرنا افضل ہے کہ نیکی پر اعانت ہے، مگر اس قدر طول نہ دے کہ مقتدی گھبرا جائیں , 
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۱ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۴ ھجری
۲۶ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی شنبہ
Previous Post Next Post