تحری نہیں کیا بلکہ تحری کرنے والے کی اتباع کرکے نماز پڑھی تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ :-زید تحری کرکے نماز پڑھ رہا تھا اور، بکر آیا اور تحری نہیں کیا بلکہ زید کی اتباع کیا تو  بکر کی نماز کا کیا حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 بکر کی نماز نہ ہوئی کیونکہ بکر کو بھی تحری کرنے کا حکم تھا بلکہ اس طرح بغیر  تحری کے کسی کی اتباع کرنا جائز، نہیں ہے 
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ردالمحتار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں : ایک شخص تحری کرکے (سوچ کر) ایک طرف پڑھ رہا ہے، تو دوسرے کو اس کا اتباع جائز نہیں ، بلکہ اسے بھی تحری کا حکم ہے، اگر اس کا اتباع کیا، تحری نہ کی، اس کی نماز نہ ہوئی۔
(بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۴۹۴ نماز کا بیان) 
واللہ تعالیٰ اعلم 
۵ محرم الحرام ۱۴۴۴ ھجری
۴ اگست ۲۰۲۲ عیسوی بروز پنجشنبہ
Previous Post Next Post