مسئلہ؛- فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریداتو کیا اسی جانور کی قربانی فقیر پر واجب ہےیا بدل بھی سکتا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جو شخص مالک نصاب نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں کریگا تو ثواب پائے گا ہاں اگر اس نے بہ نیت قربانی جانور خریدا تو خاص اسی جانور کی قربانی واجب ہوگی کسی دوسرے جانور سے بدل نہیں سکتا،
جیساکہ حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
" مال شرکت میں جسکا حصہ بقدر نصاب نہ ہو نہ اسکے پاس اپنا اور کوئی خاص مال اتنا ہو کہ حصہ کے ساتھ ملکر نصاب کو پہونچ جائے اس پر قربانی واجب نہیں یعنی نہ کریگا تو گنہگار ہوگا نہ یہ کہ اسکو قربانی نہ چاہئیے یہ محض غلط ہے بلکہ کریگا تو ثواب پائے گا بلکہ بہ نیت قربانی جانور خریدیگا تو اس پر بھی خاص اس جانور کی قربانی واجب ہوجائے گی نہ کریگا اور اس جانور کو دوسرے سے بدل نہیں سکتا کہ اس پر اسی جانور کی قربانی واجب ہوئی -
درمختار جلد ۲ صفحہ ۲۳۲ کتاب الاضحیۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی میں ہے :
و فقیر ما شراھا لھا لوجوبھا علیہ بذٰلک حتیٰ یمتنع علیہ بیعھا " اور فقیر نے واجب نہ ہونے کے باوجود خریدی ہے اس لئے اسکو فروخت ممنوع ہے _
( فتاوی رضویہ مترجم جلد ۲۰ صفحہ ۳۷۲ )
واللہ تعالیٰ اعلم
٤ ذی الحجہ ۱۴۴۳ ھجری بروز دوشنبہ
Tags:
قربانی کا بیان