مسئله:- حضور صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم کے چلنے کے رفتار کتنے اقسام کے تھے؟
بِسمِ اللّٰهِ الْــرَّحْـــمٰنِ اْلْــــرَّحِـــــیمْ
الجواب بعون الملک الوھاب ھدایۃ الحق والصواب
حضور صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم کے چلنے کے رفتار ایک قسم کی تھی
اس چال کو ہون کہتے ہیں یعنی جو مکمل حرکت اور قدرے سرعت کی چال ہے اور اس میں سکون و وقار اور اور بلا تکبر و تحادت کی علامت ہے ،
البتہ رفتار کے دس اقسام علامہ عبد الحق نے نقل فرمایا ہے ایک تحادت ہے، یه افسردہ اور مریل مانند خشک لکڑی کے لوگوں کی مٹھی چال ہے، دوسری" ازعاج" ہے یعنی طیش و خفت سبک سری اور اضطراب وپریشانی کی چال یه دونوں مذموم اور قبیح قسمیں ہیں جو مردہ دلی پر دلالت کرتی ہیں- تیسری چال ہون ہے جو مکمل حرکت اور قدرے سرعت کی چال ہے اور یہی حضورِ اکرم صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابهٖ وبارک وسلم کی چال تھی جو سکون و وقار اور اور بلا تکبر و تحادت کی علامت ہے ، چوتھی چال سعی ہے جو تیزی سے چلی جاۓ ، پانچویں چال رمل ، ہے بفتح راء ہے جو جلدی جلدی قدم اٹھا کر اور مونڈھوں کو جنبش دیے کر چلی جاۓ جس طرح پہلوان چلتے ہیں چھٹی چال نسلان ہے جو دوڑ کر تیزی سے چلی جاۓ یه رفتار سعی تیز تر ہے ، ساتویں چال خوریٰ بفتح خاء و سکون راء بازاء آخر الف مقصورہ ہے جو پنجوں کے بل چلی جاۓ ، آٹھویں چال، قہقری ہے جو پشت کی طرف الٹے قدم چلی جاۓ ، نویں چال جمری " بفتح جیمه ہے جو کود کر چلی جاۓ اونٹنی کو جمارہ اسی معنٰی میں کہا جاتا ہے ، دسویں چال تبختر ہے جو آہسته خرامی سے ٹہلتے ہوئے گردن اٹھا کر متکبروں کے انداز میں چلی جاۓ رفتار کی ان دس قسموں میں سب سے اکمل و افضل ہون ہے قرآن کریم میں بھی اس رفتار کی مدح فرمائی موجود ہے چنانچه فرمایا:
وعباد الرحمٰن الذین یمشون علی الارض ھونا
اللّٰه کے وہ بندے ہیں جو زمین پر ہوں کی رفتار سے چلتے ہیں-
(مدارج النبوۃ جلد اول صفحه نمبر ۴۰)
واللّٰه تعالیٰ الاعلٰی ورسولهٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲۲شوال المکرم شریف ۱۴۴۴ھجری بمطابق ۱۳مئـــی۲۰۲۳عیسوی بروز شنبه ــــــــــــسنیچر
Tags:
متفرقات