ایجاب وقبول کے الفاظ کتنی مرتبہ کہلوانا چاہیے؟

 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان کرام کہ جب کسی کا نکاح ہوتا ہے تو اس وقت جو ( قبول ہے) یہ الفاظ تین بار کیوں بول نے کے لیے کہا جاتا ہے  رہنمائی فرمائیں
عبدالنبی مکرم پور سکری مدھوبنی بہار

وعلیکم السلام و رحمة الله وبركاته
صورت مسئولہ میں ایجاب و قبول کے الفاظ ایک مرتبہ کافی ہے  دو تین بار کہنا ضروری نہیں مگر یہ برائے تاکید ہے ؛
جیسا کہ  حضرت علامہ مفتی عبدالمنّان اعظمی علیہ الرحمہ  تحریر فرماتے ہیں کہ
ایک مرتبہ ایجاب و قبول ہوگیا نکاح ہوگیا, کئ دفعہ کہنے کا رسم پڑگیا ہے ورنہ ایک ہی دفعہ کافی ہے "
(فتاویٰ بحرالعلوم "جلد دوم"صفحہ ۳۰۷کتاب النکاح)
والله اعلم باالصواب؛
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ  مولانا محــــمد معصــوم رضا نوری  صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی 
مورخہ؛28/12/2019)
الحلقة العلميه گروپ
رابطہ؛📞8052167976

المشتــہر فضل کبیر
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیــل احمد قــادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛
Previous Post Next Post